ترکی کے صدر روس کے ساتھ مذاکرات ،امریکہ کی پریشانی بڑھ گئی

Turkey and Rushia

Turkey and Rushia
انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی امریکا کے ساتھ دوستی اور روس کے ساتھ کشیدگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ گزشتہ سال روس کے ساتھ تعلقات اس وقت مزید خراب ہوگئے جب ترکی نے شامی سرحد کے قریب روسی جنگی طیارہ مارگرایا۔ امریکا اپنے روایتی حریف روس کے ساتھ ترکی کشیدہ تعلقات پر بہت خوش تھا مگر یہ بات اس کے لئے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں کہ اب ترک صدر رجب طیب اردوان نہ صرف روس کے دورے پر جارہے ہیں بلکہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے ان سے ملاقات کے متعلق انتہائی پرجوش اور پرامید نظر آرہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر اردوان نے روسی نیوز ایجنسی تاس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ”یہ ایک تاریخی دورہ ہوگا، ایک نیا آغاز۔ میرے دوست ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بات چیت میں، مجھے یقین ہے، باہمی تعلقات کا ایک نیا باب کھولا جائے گا۔ ہمارے ممالک کو بہت کچھ مل کر کرنا ہے۔“
شام کے تنازعہ میں روس کی اہمیت کی بات کر کے انہوں نے امریکا کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ”روس کی شمولیت کے بغیر شام کے مسئلے کا حل ملنا ناممکن ہے۔ روس کی شراکت کے ساتھ ہی ہم شام کے بحران کو ختم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔“
واضح رہے کہ ترکی کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد روس نے ترکی کا معاشی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ روسی چارٹر پروازوں کے ترکی جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی جبکہ 2016ءکے پہلے چھ ماہ کے دوران روسی سیاحوں کی ترکی آمد میں 87 فیصد کمی ہوئی۔ یہ صورتحال ترک معیشت کے لئے بھاری نقصان کا سبب بن رہی تھی، مگر ترکی امریکا سے دوستی کی خاطر روس کے ساتھ دشمنی مول لئے بیٹھا تھا۔
شام کے تنازعے میں بھی امریکا کی وجہ سے ہی روس اور ترکی ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ روس شام کے صدر بشارالاسد کا حمایتی ہے جبکہ امریکہ بشارالاسد کا تختہ الٹانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، اور ترکی کو بھی بطور امریکی اتحادی اس کا ساتھ دینا پڑ رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر طیب اردوان کی پالیسی میں حیرت انگیز تبدیلی دراصل ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد امریکا کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ترکی کی جانب سے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا جاچکا ہے کہ امریکا جمہوری حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے باغیوں کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔ ترک صدر کی روس کی جانب پیش قدمی یقینا امریکا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گی۔

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedintumblrmail

مزید

umar قابض انتظامیہ کا ظلم وستم جاری ،میر واعظ عمر فاروق بارے تشویشناک خبر آگئی
3 پاکستان کا کڑا وار ۔۔ ۔ مودی سرکار کے طوطے اُڑ گئے
54 ٹرمپ میدان میں کود پڑے ، حیران کن بات کہہ دی
53 اسلحہ کی دوڑ، بھارت نے اگنی دوم بیلسٹک میزائل کا تجربہ کر لیا
aaa حالات بدستور کشیدہ ! سعودی عرب میں راکٹ حملہ ، ہلاکتوں کا خدشہ
Pakistani Taliban members travel in a van as they leave Buner, northwestern Pakistan on Friday, April 24, 2009. Taliban militants who had seized a district just 60 miles (100 kilometers) from Pakistan's capital began pulling out Friday after the government warned it would use force to evict them. The withdrawal from Buner, if completed, eliminates the most immediate threat to a peace agreement in the neighboring militant-held Swat Valley that the U.S. government worries has created a haven for allies of al-Qaida. (AP Photo/Naveed Ali) افغانستان میں جنگ جاری ، طالبان سے قند وز کا قبضہ چھڑانے کا دعویٰ