طیبہ تشدد کیس، عدالت نے بالآخر طیبہ کوکس کیساتھ بھیج دیا؟

طیبہ تشدد کیس، عدالت نے بالآخر طیبہ کوکس کیساتھ بھیج دیا؟
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں تمام دعویداروں کے ریکارڈ قلمبند کرنے کا حکم دیتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ 10 روز میں طلب کرلی۔سپریم کورٹ میں طیبنہ تشدد ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی بچی اور اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بچی عدالتی ماحول سے گھبرائی ہوئی لگ رہی ہے۔
اس موقع پر طیبہ کے والد اعظم نے بھی عدالت میں اپنا ریکارڈ قلمبند کرایا، طیبہ کے والد کا کہنا تھا کہ اس کے 4 بچے ہیں جن میں طیبہ سب سے بڑی ہے، 14 اگست 2016 میں طیبہ کو ملازمت کے لئے پڑوسن ناردہ فیصل آباد لے گئی، نادرہ سے بچہ کھلانے کیلئے 3 ہزار روپے معاوضہ طے پایا، پڑوسن نادرہ نے مجھے 18 ہزار روپے پیشگی ادا کئے لیکن بچی اسلام آباد لے جانے کا نہیں بتایا، نادرا نے بچی سے 2 بار بات کروائی اور جب بچی ملی تو جس پر زخموں کے نشانات تھے۔چیف جسٹس نے اعظم سے استفسار کیا کہ جب آپ نے بچی کے جس پر زخم دیکھے تو ان سے متعلق کس سے پوچھا جس پر اعظم نے بتایا کہ جب جج صاحب نے بچی میرے حوالے کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ بچی کو یہ زخم کیسے لگے لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔
اعظم کا مزید کہنا تھا کہ جج صاحب نے ہمیں برما ٹاؤن میں ایک مکان لے کر دیا اور ایک موبائل سم بھی خرید کر دی لیکن بعد ازاں کہا گیا کہ سم نکال دو کیونکہ اس سے جگہ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جس کے بعد 5 روز تک ہمارا کوئی رابطہ نہ ہو سکا، پھر ہمیں ایک فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اس پر انگوٹھا لگاؤ تو ہم نے اپنی بچی کی خاطر جج صاحب کو معاف کیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔سپریم کورٹ نے بچی کے تمام دعویداروں کے بیانات قلمبند کرانے کا حکم دیتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ 10 روز میں عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
سورس : ایکسپریس نیوز
شئیر کریں




اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

ویڈیو

بزنس

پول