مسلمان کا دل ایک ہندو مریض کو عطیہ، جان بچا لی گئی

مسلمان کا دل ایک ہندو مریض کو عطیہ، جان بچا لی گئی
ایک مفلوج ذہن والے مسلمان اور اس کے اہلخانہ نے ایک ہندو مریض کی جان بچا لی ہے۔ مسلم خاندان نے ڈاکٹروں کو اجازت دی تھی کہ وہ دل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن کرتے ہوئے ہندو مریض کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق آصف جُنیجہ نامی مسلمان تحصیل سہور کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا اور اب اس کے دل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن کرتے ہوئے امبالیہ نامی ہندو کی جان بچا لی گئی ہے۔ مسلمان کسان کا دل باؤنگر سے ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے احمد آباد پہنچایا گیا اور وہاں کے ایک نجی ہسپتال میں ہندو مریض کی سرجری کی گئی۔
آصف جُنیجہ سترہ دسمبر کے روز ایک کار حادثے میں زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں جلد ہی ایک ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا دماغ مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کے بعد نیورو سرجن نے مسلم خاندان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مریض کا دل کسی ایسے شخص کو عطیہ کر دیں، جس کو اس کی شدید ضرورت ہے۔
نیوروسرجن ڈاکٹر راجندر کباریہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے جنیجہ کے اہلخانہ سے درخواست کی کہ وہ مریض کے ایسے تمام اعضاء عطیہ کر دیں، جنہیں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے خاندان نے ہمارے اس مشورے کا قبول کرتے ہوئے دل کے ساتھ ساتھ اس کے دو گردے بھی عطیہ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاوہ مسلمان مریض کے جگر اور لبلبے کو بھی چار دیگر ضرورت مند مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔‘‘
ڈاکٹر کباریہ کا کہنا تھا کہ باؤنگر کی ہسپتال انتظامیہ نے احمد آباد کے ایک ہسپتال سے رابطہ کیا، جہاں ایک ایجنسی کے ذریعے امبالیہ کا علاج کیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو جنیجہ کی صحت بہت ہی اچھی تھی اور اس کے خون کا گروپ بھی او نیگیٹیو تھا۔ او نیگیٹیو گروپ والے شخص کو یونیورسل ڈونر کہا جاتا ہے اور ایسے شخص کے عطیہ کردہ اعضاء ہر کسی مریض کو لگائے جا سکتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ہندو مریض کو ایمرجنسی وارڈ میں ایک وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔ احمد آباد ہسپتال کے ڈاکٹر شاہ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ امبالیہ کی جان نہیں بچائی جا سکتی تو ہمیں خبر ملی کی مفلوج ذہن والے ایک مریض کا دل عطیے کے طور پر مل سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’باؤنگر کے ہسپتال میں آٹھ بج کر بیس منٹ پر دل نکالا گیا۔ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے احمد آباد لایا گیا۔ ہم نے سفر اور وقت کم سے کم رکھنے کے لیے ایک گرین کوریڈور تشکیل دے رکھا تھا۔ نو بج کر تیس منٹ پر امبالیہ کی سرجری شروع کی گئی جو مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہی اور آپریشن کامیاب رہا۔‘‘ اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں ہیں۔
سورس: ڈی ڈبلیو
شئیر کریں




اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

ویڈیو

بزنس

پول