کراچی میں ایک لاکھ بچے پولیو کی خوارک سے محروم

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تقریبا ایک لاکھ بچے پولیو ویکیسن سے محروم رہے ہیں اور شہر کی چار یونین کاؤنسلز ہائی رسک قرار دی گئی ہیں۔
صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پولیو ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔ پیر کو پولیو سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انھیں پولیم مہم کی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔
پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ای پی آئی فیاض جتوئی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 2016 میں ملک بھر میں 19 پولیو کے کیسیز سامنے آئے جن میں سے 8 صوبہ سندھ، 8 خیبر پختون خواہ 2 فاٹا اور ایک بلوچستان میں پیش آيا۔
پنجاب میں کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح 2015 کے دوران ملک بھر میں پولیو کے 54 کیسیز سامنے آئے تھے جن میں سندھ کے 12 کیس شامل تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ پنجاب، بلوچستان، فاٹا اور خیبر پختون خواہ میں تو بہتری آئی ہے مگر صوبہ سندھ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کچھ مسائل ہیں جن کا تدارک کرنا ضروری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر اور دسمبر 2016 کے آواخر میں انسداد پولیو مہم شروع کی گئی تھی جس میں کراچی کا ہدف 22 لاکھ بچے مقرر کیا گیا تھا۔ ان میں سے 2.6 فیصد بچے دستیاب نہیں تھے جبکہ 1.7 فیصد بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔
وزیراعلیٰ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ 100 فیصد نتائج کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ لانڈھی یوسی ون اور یوسی ٹو، سائیٹ یو سی 9 اور بلدیہ یو سی ٹو ہائی رسک پر ہیں کیونکہ ان علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس کے علاوہ یوسی 4 گڈاپ میں واقع جنت گل ہسپتال غیر فعال ہے۔
اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ کے ایم سی کا عملہ بھی پولیو اور ای پی آئی کی سرگرمیوں میں تعاون کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ کراچی میٹروپولیٹن انتظامیہ کے ساتھ بات کریں اور ان کی مناسب طریقے سے شرکت کو یقینی بنائیں ورنہ ایم سی عملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ پورے صوبے میں صرف 2200آئس لائنڈ ریفریجریٹر ہیں اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پولیو ویکسین خراب اور غیر موثر ہو جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ سولر سسٹم پر چلنے والے آئس لائنڈ ریفریجریٹر خرید کریں، وہ اس بات کا انتظار نہیں کر سکتے کہ ڈونر ایجنسیاں یہ ریفریجریٹر بھیجیں اور پھر ان سے استفادہ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایات جاری کیں کہ وہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو فعال کریں اور ان کی خدمات سے صوبے سے پولیو کے خاتمے کے لیے استفادہ کریں۔ انھیں بتایا گیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز احتجاجی ہڑتال پر ہیں کیونکہ انہیں گذشتہ چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر فنڈز جاری کریں تاکہ ان کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس کی قریبی سڑک پر پیر کے روز لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج بھی کیا۔ سید مراد علی شاہ سندھ سیکریٹیریٹ سے واپسی پر ان کے پاس پہنچے اور انہیں آگاہ کیا کہ ان کی تنخواہیں جاری کرا دی گئی ہیں۔ ورکرز نے وزیراعلیٰ کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں کے اجرا کا حکم دے چکے ہیں اور ان کے باقی ماندہ مسائل یعنی گاڑیوں کی مرمت، پیٹرول کی فراہمی اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے مسائل 3 دن کے اندر حل کردیے جائیں گے۔
سورس: بی بی سی اردو
شئیر کریں




اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

ویڈیو

بزنس

پول