فرعون کو دریائے نیل میں آخر کیوں ڈبویا گیا ؟ ایک ایسا واقعہ جو آپ کو معلوم نہیں ہوگا

ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا جبریئلِ امین عَلَیْہ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام فرعون کے پاس ایک اِسْتِفُتاء لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ بادشاہ کا کیا حکم ہے ایسے غلام کے بارے میں جس نے اپنے ’’آقا ‘‘کی دولت و نعمت میں پرورِش پائی بھر اُس کی نا شُکری کی اور اُس کی اور اُس کے حق میں نہ صرف مُنِکر(یعنی انکار کرنے والا ہوا) بلکہ خود ’’آقا ‘‘ ہونے کا مُدَّعی (دعویدار) بن گیا۔اِ س پر فرعون نے یہ جواب دیا کہ جو نمک حرام غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اُس کے مُقابِل (یعنی مقابلے پر ) آئے،اُس کی سزا یہ ہے کہ اُس کو دریا میں ڈبو دیا جائے۔ چُنانچہ فرعون جب خود دریائے نیل میں ڈوبنے لگا تو حضرتِ سِّیدُنا جِبرئیلِ امین عَلَیْہِ الصَّلوٰ ۃُ وَ السَّلام نے اِس کا وُہی فتویٰ اس کے سامنے کر دیا اور اِس کو اِس نے پہچان لیا۔




اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ ترین خبریں

ویڈیو

بزنس

پول