قطری شہزادے صرف تلور نہیں ہماری عزت کا بھی شکار کرتے ہیں

وڈیو اسی پیج کے نچلے حصے میں ملاحضہ فرمائیں
حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی
انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔
حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی وژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آجکل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

Facebook Comments

مزید

مدینے کی گلیوں میں پاکستانیوں کی شرمناک حرکتیں
ایم کیو ایم کیخلاف پولیس اور رینجرز کا ایکشن
ایسی رپورٹنگ جسے دیکھ کر آپ سر پکڑ کے بیٹھ جائیں
ظفری خان انڈیا جاتے ہی چھا گئے
خاوند نے گھر میں خفیہ کیمرہ لگایا. اور پھر کیا شرمناک حرکت ریکارڈ ہوئی؟ آپ بھی دیکھیں
مشہور گلوکارہ پر شوہر کا مبینہ تشدد