فرمان شاہ کابندہ ہوں

سلطان محمود کے پاس ایک جام بیش بہا تھا۔ اراکین دولت کو حکم دیا کہ اس کو توڑ دو۔ سب نے عذر کیا کہ حضور ایسی نایاب چیز کو توڑنا مناسب نہیں۔ آخر ایاز کو اشارہ کیا۔ اس نے بے تامل چور چور کر دیا، اہل دربار نے اس کو ملامت کی آہ! ایسی جنس عزیز تو نے ضائع کر دی۔ ایاز نے جواب دیا کہ تم نے پیالے کی نایابی کو مدنظر رکھا اور میں فرمان شاہ کا بندہ ہوں۔ بادشاہ نے بھی مصنوعی ناراضگی سے اس سے پوچھا کہ تم نے کیوں پیالہ توڑا؟ جبکہ تمام اہل دربار اس کے توڑنے میں متامل تھے۔ ایاز نے دست بستہ عرض کیا کہ حضور قصور ہو گیا۔ معاف فرمائیں۔ بادشاہ نے اہل دربار سے مخاطب ہو کر کہا اس قسم کی فرمانبرداری ہی نے اس کو دلداری کا رتبہ دیا ہے، جس کا کہ تم سب رشک و حسد کرتے ہو۔

Facebook Comments

مزید

بے وقوف بادشاہ
اس میں اللہ کی بہتری ہو گی
ایک شادی شدہ مردبیرونِ ملک اپنی بیوی سے دور کتنا عرصہ رہ سکتا ہے؟
باباجی قبر بنانی ہے
ایک قصائی کو اپنی پڑوسی لڑکی سے عشق ہو گیا
تین گدھے