فاٹا اصلاحات پر اتفاق کیوں نہیں؟

fata

پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات پر تمام سیاسی جماعتوں سے بار بار مشاورت کے باوجود اس پر تاحال مکمل اتفاق حاصل نہیں کیا جاسکا ہے جس سے یہ معاملہ بظاہر کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔
قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے کی سب سے بڑی مخالف سمجھی جانے والی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ابتدا ہی سے اصلاحاتی کمیٹی کے بعض سفارشات پر اعتراض رہا ہے اور اس کی وہ کھل کر مخالفت بھی کرتی رہی ہے۔ تاہم یہ سلسلہ اب مخالفت سے بڑھ کر ایک باقاعدہ احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
اتوار کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی طرف سے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں فاٹا اصلاحات کے خلاف ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبا اور جے یو آئی کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔فاٹا میں جے یو آئی کے جنرل سیکریٹری مفتی اعجاز شنواری کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام نہ کرنے کا واضح اعلان نہیں کرتی۔انھوں نے کہا کہ انکی جماعت فاٹا میں اصلاحات کی مخالف نہیں ہے تاہم قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے بہتر ہوگا کہ ان کو الگ صوبے کا درجہ دیا جائے۔
ان کے مطابق فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دے بلکہ ان کو صرف وہاں اصلاحات کرانے کا اختیار دیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کا احتجاج جاری رہے گا اور اس سلسلے میں ایک ریلی آئندہ ہفتے خیبر ایجنسی اور فروری میں ایک ریلی کرم ایجنسی میں منعقد کی جائے گی۔ادھر قبائلی علاقوں سے منتخب اراکینِ پارلمینٹ کا کہنا ہے کہ ‘جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ‘ڈبل گیم’ کھیل رہے ہیں وہ ایک طرف اصلاحات مخالفت کررہے اور دوسری طرف حمایت بھی۔انھوں نے کہا کہ جے یو آئی اس لئے فاٹا اصلاحات کی مخالفت کررہی ہے کیونکہ فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بن جانے سے قبائلی علاقوں میں اس پارٹی کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
دو دن پہلے وفاقی وزیر برائے سیفران اور فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے رکن جنرل (ر) عبد القادر بلوچ نے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے ضمن میں بعض سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کر کے اس سلسلے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرلیا گیا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد ان کی طرف سے فاٹا کو ِخیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا گرین سنگل دے دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں باضابط اعلان آئندہ دنوں وفاقی کابنیہ کے اجلاس میں متوقع ہے۔انھوں نے یہ بات گذشتہ دنوں اسلام آباد میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے ایک اجلاس کے اختتام پر بعض اخبار نوسیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی۔ یہ اجلاس کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا جس میں صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی شرکت کی تھی۔عبد القادر بلوچ نے کہا کہ دو سیاسی جماعتوں جے یو آئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے فاٹا اصلاحات پر چند خدشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن وہ معاملہ اب حل کر لیا گیا ہے لہذا اصلاحات کا بہت جلد اعلان ہوجائے گا۔تاہم دوسری طرف وفاقی وزیر کے واضح بیان کے باوجود بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال وزیر اعظم نوازشریف نے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ وزیر خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کرثکے ایک رپورٹ تیار کرلی جسے بعد میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
تاہم وفاقی کابینہ نے اس رپورٹ پر عمل درآمد کو موخر کردیا ہے۔ تاہم بعد میں وزیراعظم کی طرف سے اصلاحاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ فاٹا کے تمام سٹیک ہولڈرز اور اصلاحات کے مخالف سیاسی جماعتیں جے یوآئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے مشارت کر کے ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے سب متفق ہوں۔
سورس: بی بی سی اردو
شئیر کریں

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedintumblrmail

مزید

20 جنید جمشید کونسا بڑا کام کررہے تھے؟دوست نے پردہ چاک کردیا
fdsfsfs عمران خان کو تیسری شادی کرنے سے پہلے حکیم سے مشورہ لینا چاہیے،اہم وزیر کا مشورہ
17 آصف زرداری کی پاکستان آمد پیپلز پارٹی پر بھاری اہم ترین رہنماء کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
52 اسلام آباد بند کرنا مذاق نہیں! عابد شیر علی ، کپتان پر برس پڑے
Aamir Liaqat ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عامربھی لیاقت گرفتار
17 عاصم سلیم باجوہ گہرے صدمے سے دوچار ، فضا سوگوار