سمندری حیات کی سب سے بڑی پناہ گاہ قطب جنوبی میں ہو گی

0001

سمندری حیات کی سب سے بڑی پناہ گاہ قطب جنوبی میں ہو گی
نیوزی لینڈ کے مطابق سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قطب جنوبی میں ایک انتہائی بڑے سمندری علاقے میں پناہ گاہ بنائی جائے گی، جس کا رقبہ امریکی ریاست ٹیکساس سے دوگنا ہو گا۔
سمندری حیات کے لیے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنانے کے لیے قطب جنوبی کو ایک علاقے کو منتخب کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ بحیرہ راس کہلاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ مرے میک کَلی نے بتایا ہے کہ دنیا کے کئی ملک اِس سمندری حدود میں سمندری حیات کو محفوظ کرنے اور اُن کی افزائش پر متفق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور یورپی یونین بھی اس تجویز سے متفق ہیں۔
تجویز کے مطابق بحیرہ راس کے علاقے کو سمندری حیات کی پناہ گاہ بنانے کے بعد اس کے کم از کم تین چوتھائی حصے میں مچھلی کے شکار پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور پابندی کی نگرانی کے لیے خصوصی آلات نصب کیے جائیں گے۔ پناہ گاہ کے لیے 1.6 ملین مربع کلومیٹر کا سمندری علاقہ مختص کیا جائے گا۔ سمندری حیات کے لیے ایسا کوئی علاقہ مختص کرنے کی تجویز کی وکالت امریکا اور نیوزی لینڈ مشترکہ طور پر کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے تھے۔
گزشتہ برس چین نے بھی اس تجویز کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ مرے میک کَلی کے مطابق پہلے سے طے شدہ کنوینشن میں چند تبدیلیاں بہت ضروری ہیں اور ایسا کرنے سے سمندری حیات کے تحفظ کی کوششوں کو عالمی حمایت حاصل ہو سکے گی۔ میک کَلی کے مطابق پہلی مرتبہ مختلف ملکوں نے اس تجویز کو ایک اہم پیش رفت سمجھ کر اپنے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر نئی تجاویز ارسال کی ہیں۔
اِس پراجیکٹ کے حوالے سے بحر اوقیانوس کے اتحاد کے ڈائریکٹر مائیک واکر کا کہنا ہے کہ اگر اس پیش رفت میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو سمندری حیات کی بقا اور تحفظ کے لیے یہ ایک بہت بڑا قدم ہو گا۔ واکر نے مزید کہاکہ یہ ایک بہتر اور عمدہ بات ہے کہ سمندر ی حیات کے لیے ایک محفوظ علاقے کے قیام کی تشکیل کے سلسلے میں کئی اقوام نے اپنے تنازعات کو نظرانداز کر دیا ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ قطب جنوبی کا بحیرہ راس دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں سمندری حیات کا ایکوسسٹم ابھی تک محفوظ خیال کیا جاتا ہے۔ یہی علاقہ خاص طور پر پنگوئن، قطبِ جنوبی کی ٹوتھ فِش اور وہیل مچھلیوں کا گھر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اِس سمندر کی گہرائی میں بیش قیمت نباتات کی نایاب قسمیں بھی موجود ہیں۔
سورس: ڈی ڈبلیو
شئیر کریں

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedintumblrmail

مزید

aaa دنیا کی پراسرار ترین چیز ’’ گیدڑ سنگھی ‘‘حقیقت ہے یا افسانہ ؟ جانئے
28 وہ 6 عمومی سوالات جو جاب انٹرویو کے دوران پوچھے جاتے ہیں
aaa یورپی یونین کا ایپل کمپنی کو 13 ارب یورو جمع کرانے کا حکم، وجہ کیابنی؟ جانئے
sadadas حکومت کی جانب سے بنائے گئے ٹوائلٹ ، بھارتیوں نے کس مقصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیئے؟جان کر آپ سر پکڑ لیں گے
IC8462852 دنیا سے باہر ایک ستارے پر پراسرار حرکت دیکھ کر سائنسدان بھی چکرا گئے
aaa ائیر لائن کا بچی کو زندگی بھر مفت ٹکٹ دینے کا اعلان ، وجہ کیابنی ؟ جانئے